عیب و صواب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خرابی اور خوبی، اچھائی برائی۔ "یہ سگار تو ذرا چکھیے، آپ کی قابلیت کا امتحان ہے بتائیے اس میں کیا عیب و صواب ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عیب' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی ہی مشتق اسم 'صواب' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں

١ - خرابی اور خوبی، اچھائی برائی۔ "یہ سگار تو ذرا چکھیے، آپ کی قابلیت کا امتحان ہے بتائیے اس میں کیا عیب و صواب ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ٢٩ )

جنس: مذکر